ابنا: لبنان کے صدر ميشل سليمان نے لبنان کي آبي حدود کے اندر پائے جانے والے قدرتي ذخائر کے ناجائز استعمال کي بابت اسرائيل کو متنبہ کرتے ہوئے واضح کيا ہے کہ صہیوني حکام شروع ہي سے ديگر قوموں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر اپنے ناجائز وجود کو دوام بخشتے چلے آرہے ہيں ليکن اس بار انہيں نے لبناني قوم اور تحريک مزاحمت حزب اللہ کے شديد ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا-
لبنان کے وزير اعظم نجيب ميقاتي نے بھي اپنے بيان ميں يہ بات زور ديکر کہي ہے کہ بحيرہ روم ميں لبنان کي آبي سرحدوں کے اندر دريافت ہونے والے قدرتي ذخائر لبناني عوام کي ملکيت ہيں اور اسرائيل ان پر قبضہ نہيں جماسکتا- انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ سميت پوري عالمي برادري کو چاہيئے کہ وہ اسکي روک تھام کے لئے اسرائيل پر دباو ڈالے-
ادھر حزب اللہ لبنان کے سربراہ سيد حسن نصراللہ نے بھي اپنے ملک کے تيل کے ذخائر پر اسرائيل کے ناجائز تسلط کے بارے ميں متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انکي جماعت ملک کے خلاف اسرائيل کي ہر جارحيت کا منہ توڑ جواب دينے کے لئے پوري طرح تيا رہے-
لبنان کے سرحدوں کے قريب واقع علاقے حيفا کے شمال مغر ب لفتان نامي کنووں کي کھدائي سے پتہ چلا ہے کہ يہاں چار سو تريپن ارب مکعب ميٹر قدرتي گيس کے ذخائر موجود ہيں- لبنان اور صہیوني ریاست کے درميان آبي سرحدوں کے بارے ميں اختلافات پائے جاتے ہيں-گيس کے ان قدرتي ذخائر پر غير قانوني قبضے سے اسرائيل کو نہ صرف مصر سے گيس کي درآمد کي ضرورت نہيں رہے گي بلکہ وہ يورپي ملکوں کو گيس سپلائي کرنے کي پوزيشن ميں بھي آجائے گا-
بحيرہ روم کے بين الااقوامي سمندري حدود ميں واقع تيل اور گيس کے قدرتي ذخائر کے ناجائز استعمال کے بارے ميں لبنان اور اسرائيل کے اختلافات ايسے وقت ميں سامنے آئے ہيں جب ترکي نے بھي ان ذخائر کے استعمال کے بارے ميں تل ابيب کو پہلے ہي انتباہ دے ديا ہے-سياسي ماہرين کا خيال ہے کہ بحيرہ روم ميں پائے جانے والے لبنان کے قدرتي ذخائر کے ناجائز استعمال کي اصل وجہ يہ ہے کہ اقوام متحدہ نے پوري جانبداري کا مظاہرہ کرتے ہوئے لبنان کي اس درخواست پر کوئي کاروائي نہيں کي جس ميں اس نے مقبوضہ فلسطين کے ساتھ اپني آبي سرحدوں کے تعين کا مطالبہ کيا تھا-
.............
/169